جمعہ سے متعلق متفرق مسائل

جمعہ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نماز جمعہ کے متعلق مسائل

نمازِ جمعہ سے پہلے وعظ وتقریر

مسئلہ: بعض اوقات نمازِ جمعہ سے پہلے وعظ وتقریر ہوتی ہے، اور لوگ اس دوران سنتیں پڑھ رہے ہوتے ہیں، اسی طرح کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی نماز کے بعد کوئی واعظ اور مقرر اپنا وعظ وتقریر شروع کردیتا ہے، اور لوگ سنتوں میں مشغول ہوتے ہیں، اِن دونوں صورتوں میں نمازیوں کو […]

جمعہ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نماز جمعہ کے متعلق مسائل

جمعہ کے دن زوال کے وقت نفل نماز

مسئلہ: بعض لوگ جمعہ کے دن اذان سے پہلے مسجد پہنچ جاتے ہیں، جو بہت اچھی بات ہے، مگر ان میں سے کچھ لوگ عین زوال کے وقت بھی نفل نماز میں مشغول ہوجاتے ہیں، اور یہ سمجھتے ہیں کہ جمعہ کے دن اس وقت نماز پڑھنا جائز ہے، حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ

جمعہ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نماز جمعہ کے متعلق مسائل

خطبہ اور نماز ایک ہی شخص پڑھائے

مسئلہ: بہتر اور مناسب یہی ہے کہ خطبہ اور نماز ایک ہی شخص پڑھائے، البتہ اگر خطبہ کوئی پڑھے اور امامت دوسرا کرائے، تو یہ بھی درست ہے، اور نماز میں کوئی کراہت نہیں ہے، البتہ یہ فعل بلا ضرورت غیر اَولیٰ ہے(۱)، خطبہ کا بعض حصہ نہ سننے والا بھی امامت کرسکتا ہے، البتہ

جمعہ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نماز جمعہ کے متعلق مسائل

سنت پڑھتے ہوئے خطبہ شروع ہوجائے

مسئلہ: اگر کوئی شخص جمعہ سے پہلے کی چار رکعت سنتِ موٴکدہ پڑھ رہا ہو، اور جمعہ کا خطبہ شروع ہوجائے، تو صحیح یہی ہے کہ ہلکی ہلکی رکعتیں پڑھ کر سنت کو پورا کرلے، اور توڑے نہیں، یہاں یہ شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ خطبہ کا سننا واجب ہے ، اور نماز سنت ہے،

جمعہ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نماز جمعہ کے متعلق مسائل

جمعہ کی نماز میں سلام کے بعد شرکت

مسئلہ: جو شخص جمعہ کے دن امام کے ساتھ قعدہٴ اخیرہ میں سلام سے پہلے شریک ہوا، وہ جمعہ کی نماز پوری کرے گا، نہ کہ ظہر کی(۱)، اور جوشخص امام کے سلام پھیرنے سے پہلے شریک نہ ہوسکا، تو وہ ظہر کی نماز پڑھے گا، نہ کہ جمعہ کی۔(۲) الحجة علی ما قلنا :

جمعہ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نماز جمعہ کے متعلق مسائل

جمعہ کے دن خطبہ سے پہلے آنا

مسئلہ: نمازِ جمعہ کے لیے خطبہ شروع ہونے سے پہلے آنا چاہیے، کیوں کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جمعہ کی حاضری لکھنے کے لیے فرشتے مقرر ہوتے ہیں، جو شخص پہلی گھڑی میں آئے اس کے لیے اونٹ کی قربانی کا ثواب لکھا جاتا ہے، اور بعد میں آنے والوں کا ثواب گھٹتا

جمعہ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نماز جمعہ کے متعلق مسائل

پہلی اذان کے بعد مسجد کے باہر ٹوپی وغیرہ بیچنا

مسئلہ: بعض تاجر جمعہ کے دن ، جمعہ کی پہلی اذان کے بعد مسجد سے باہر اس کے صحن میں ٹوپی، تسبیح، عطر اور سرمہ وغیرہ بیچتے ہیں، اور دوسری اذان یعنی جب خطبہ کی اذان ہوتی ہے، تو اپنا یہ کاروبار بند کرکے نمازِ جمعہ میں شامل ہوجاتے ہیں، اُن کا اس طرح کاروبار

جمعہ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نماز جمعہ کے متعلق مسائل

جمعہ کے دن پہلی اذان کے بعدکسی کام میں مشغول ہونا

مسئلہ: جمعہ کے دن پہلی اذان کے بعد جمعہ کی تیاری کے علاوہ کوئی بھی کام جائز نہیں ہے، خواہ دینی کام ہی کیوں نہ ہو۔ الحجة علی ما قلنا : ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یایها الذین آمنوا إذا نودي للصلوة من یوم الجمعة فاسعوا إلی ذکر الله وذروا البیع﴾۔ (سورة الجمعة:۹)

جمعہ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نماز جمعہ کے متعلق مسائل

اذانِ اول پر سعی کا وجوب اور بیع کی کراہت کا حکم شرعی

مسئلہ: آج کل آبادیاں بڑھ گئیں جس کی وجہ سے ایک ہی گاوٴں اور شہر میں متعدد مسجدیں بن گئیں، اور متعدد مسجدوں میں نمازِ جمعہ بھی پڑھی جانے لگی، ہر مسجد میں اذان وجماعت کا ایک وقت مقرر ہے، جس کی بنا پر کسی مسجد میں اذان پہلے اور کسی مسجد میں بعد میں

جمعہ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نماز جمعہ کے متعلق مسائل

ایئر پور ٹ، قیدخانہ اور فیکٹر یوں میں نمازِ جمعہ کاحکم

  مسئلہ: اگر کوئی آبادی ایسی ہے جس میں معتد بہ لوگ رہتے ہیں اور وہ شہر کے اندر بھی ہے لیکن دفاعی ، انتظامی یا حفاظتی وجوہ سے اس آبادی میں ہر شخص کو آنے جانے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ وہاں کا داخلہ وجوہ مخصوصہ کی بناء پر کچھ خاص قواعد کا پابند

جمعہ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نماز جمعہ کے متعلق مسائل

نمازِ جمعہ کے بعد کتنی رکعات سنت پڑھنی چاہیے؟

مسئلہ: نمازِ جمعہ کے بعدچار رکعت سنتِ مؤکدہ ہونا مرفوع حدیث سے ثابت ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے چھ رکعتیں مروی ہیں، پہلے چار مؤکدہ پھر دو غیر مؤکدہ ۔ لہذا چھ پڑھنا افضل ہے اور اس کوامام ابو یوسف، امام طحاوی اور اکثر مشائخ رحمہم اللہ نے اختیار کیاہے یعنی یہی مفتی

جمعہ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نماز جمعہ کے متعلق مسائل

جمعہ کی جماعت فوت ہو جائے تو کیا کرے؟

مسئلہ: اگر کوئی شخص نمازِ جمعہ کیلئے ایسے وقت ــپہونچا کہ نما زِ جمعہ ختم ہو چکی ہو، تو اگر کسی اورمسجد میں نمازِ جمعہ مل سکتی ہو تو وہاں جاکر اداکرے ورنہ ظہر کی نماز پڑھے ،کیوں کہ نمازِ جمعہ کی قضاء نہیں ہے۔ الحجة علی ما قلنا ما في ’’المصنف لابن أبي شیبة‘‘:

جمعہ سے متعلق متفرق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نماز جمعہ کے متعلق مسائل

 نمازِ جمعہ چھوٹ جائے

مسئلہ: جس گاوٴں میں ایک ہی جگہ نمازِ جمعہ پڑھی جاتی ہووہاں کسی شخص کی نماز جمعہ چھوٹ جائے تو وہ ظہر کی نماز اداکرے، نہ کہ جمعہ کی ۔ الحجة علی ما قلنا : ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : أهل مصر فاتتهم الجمعة فإنهم یصلون الظهر بغیر أذان ولا إقامة

اوپر تک سکرول کریں۔