نماز

جنازے سے متعلق متفرق مسائل, جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

عید گاہ میں نمازِ جنازہ پڑھنا کیا درست ہے؟

مسئلہ: جس طرح پوری مسجد میں کہیں بھی امام کی اقتدا جائز ہے، خواہ صفیں متصل نہ ہوں، اسی طرح پوری عیدگاہ میں کہیں بھی امام کی اقتدا جائز ہوگی، خواہ صفیں متصل نہ ہوں، عیدگاہ کا مسجد کے حکم میں ہونا محض اسی اعتبار سے (یعنی جوازِ اقتدا بصورتِ عدم اتصالِ صفوف) ہے، اس […]

جنازے سے متعلق متفرق مسائل, جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

بلا کسی عذر مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنا مکروہ ہے

مسئلہ: احناف کے نزدیک بلا کسی عذر مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنا مکروہ ہے(۱)، کیوں کہ آپ ﷺ اور حضراتِ صحابہٴ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا دائمی عمل مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنا نہیں تھا(۲)، بلکہ مسجد کے باہر اس کیلئے مستقل علیحدہ جگہ بنوائی گئی تھی(۳)، لہٰذا بعض لوگوں کا حضرت عائشہ

جنازے سے متعلق متفرق مسائل, جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

راستہ میں بیٹھے لوگوں کا جنازہ میں شرکت کرنا

مسئلہ: اگر کسی شخص کا جنازہ قبرستان جارہا ہو، تو راستے میں چائے خانوں اور ہوٹلوں پر بلا ضرورت بیٹھے ہوئے لوگوں کو چاہیے کہ وہ جنازہ کے ساتھ قبرستان تک جائیں، اور نمازِ جنازہ وعملِ تدفین میں شریک ہوکر اپنے مسلمان بھائی کے ایک حق ”اتباع الجنائز“ کو ادا کریں(۱)، لیکن اگر کسی ایسے

جنازے سے متعلق مسائل, جنازے کی نماز, مسائل مهمه, نماز

نماز جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر میت کے لیے دعامانگنا

مسئلہ: بعض لوگ نماز جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھاکر میت کیلئے دعا مانگتے ہیں، جب کہ کتبِ فقہ میں نمازِ جنازہ کے بعد مستقلاً میت کیلئے دعا مانگنے کو منع کیا گیا ہے، کیوں کہ نمازِ جنازہ خود دعا ہے۔ الحجة علی ما قلنا : ما فی ” مرقاة المفاتیح “ : ولا یدعو للمیت

جنازے سے متعلق متفرق مسائل, جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

جنازہ کے ساتھ چلتے وقت ذکر کرے یا خاموش رہے؟

مسئلہ: جنازہ کے ساتھ چلتے وقت خود نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا طرزِ عمل یہ تھا کہ خاموش رہتے یا آہستہ آواز میں ذکر وغیرہ کیا کرتے تھے، اس لئے فقہاء عظام نے بھی اسی طرزِ عمل کو اختیار کرنے کا حکم فرمایا ہے، اور جنازہ کے ساتھ

جنازے سے متعلق مسائل, جنازے کی نماز, مسائل مهمه, نماز

جوتا یا چپل پہن کر نمازِ جنازہ پڑھنا شرعاً کیسا ہے؟

مسئلہ: جوتا یا چپل پہن کر نمازِ جنازہ پڑھنا جبکہ وہ پاک ہوں جائز ہے(۱)، اور اگر نیچے کا حصہ نجس ہو تو پیر سے نکال کر ان پر پیر رکھ کر نماز پڑھنا درست ہے، بشرطیکہ اوپرکا حصہ پاک ہو(۲)، اگر اوپر کا حصہ نجس ہو تو پھر نکالنا اور پیر سے علیحدہ کرنا

جنازے سے متعلق مسائل, جنازے کی نماز, مسائل مهمه, نماز

نماز جنازہ کی صفوں میں طاق عدد کا لحاظ رکھنا

مسئلہ: نماز جنازہ کی صفوں میں طاق عدد کا لحاظ رکھنا شرعاً مستحب ہے، کیو ں کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے : جس شخص پر تین صفوں نے نمازِ جنازہ پڑھی اس کی مغفرت ہوجاتی ہے(۱)، چنانچہ اگر کسی جنازہ میں محض سات آدمی ہوں تو ان میں سے ایک امامت کیلئے آگے بڑھ

جنازے سے متعلق مسائل, جنازے کی نماز, مسائل مهمه, نماز

کئی جنازے جمع ہوں تو پہلے کس کی نماز پڑھی جائے؟

مسئلہ: اگر کئی جنازے جمع ہوجائیں تو بہتر یہ ہے کہ ہر جنازہ پر الگ الگ نماز پڑھی جائے، پہلے اس پر نماز پڑھی جائے جو افضل ہو، پھر اس کے بعد جو افضل ہو، اسی ترتیب کے ساتھ، اور اگر اس ترتیب کا لحاظ نہیں کیا گیا تب بھی کوئی مضائقہ نہیں، اور اگرتمام

جنازے سے متعلق مسائل, جنازے کی نماز, مسائل مهمه, نماز

جنازہ کی نماز ایک دفعہ ہے اس سے زیادہ نہیں!

مسئلہ: جنازہ کی نماز ایک دفعہ ہے اس سے زیادہ نہیں(۱)، ہاں اگر ولی نے ابھی نماز نہیں پڑھی، بلکہ کسی اور نے اس کی اجازت کے بغیر پڑھ لی ، پھر ولی پڑھنا چاہے تو اس کو اجازت ہے(۲)، لیکن اگر ولی نے کسی اور کو نماز جنازہ پڑھانے کی اجازت دیدی، اجازت چاہے

جنازے سے متعلق مسائل, جنازے کی نماز, مسائل مهمه, نماز

نماز جنازہ کی تکبیریں فوت ہوجائیں تو کیا کرے؟

مسئلہ: اگر کوئی شخص جنازہ کی نماز میں ایسے وقت شریک ہوا کہ امام دو تکبیر کہہ چکا تھا، تو یہ شخص تیسری تکبیر کہہ کر امام کے ساتھ شریک ہوکر دعاء پڑھے، پھر چوتھی تکبیر کے بعد جب امام نماز پوری کردے تو یہ ایک تکبیر کہہ کر ثناء پڑھے، دوسری تکبیر کہہ کر

جنازے سے متعلق متفرق مسائل, جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

چار تکبیرات نماز جنازہ کے ارکان ہیں

مسئلہ: چار تکبیرات نمازِ جنازہ کے ارکان ہیں(۱) اور دعا مسنون ہے(۲)، اس لئے اگر کسی شخص نے تین تکبیرات پر ہی نماز ختم کردی تو اس کی نماز نہیں ہوگی(۳)، اور اگر کوئی شخص دعا چھوڑ دے تو اس کی نماز ہوجائے گی، اگر امام بھول کر پانچویں تکبیر کہے تو مقتدی پانچویں تکبیر

جنازے سے متعلق مسائل, جنازے کی نماز, مسائل مهمه, نماز

میت غائب پر نماز جنازہ پڑھنا درست نہیں ہے

مسئلہ: عند الحنفیہ نمازِ جنازہ کیلئے میت کا سامنے موجود ہونا ضروری ہے، غائب پر درست نہیں(۱)، آپ ﷺ کے بعد صحابہٴ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین میں سے کسی کا میتِ غائب پر نمازِ جنازہ پڑھنا نہیں دیکھا گیا(۲)، البتہ امام شافعی وامام احمد رحمہما اللہ کے نزدیک غائبانہ نمازِ جنازہ جائز ہے، ان

جنازے سے متعلق مسائل, قبر اور دفن, مسائل مهمه, نماز

آدمی جس جگہ وفات پائے اسے وہیں دفن کردیا جائے

مسئلہ: شریعت کا حکم یہ ہے کہ آدمی جس جگہ وفات پائے اسے وہیں دفن کردیا جائے، گرچہ اس نے وصیت کی ہو کہ اسے کسی اور بستی میں دفن کیا جائے، کیوں کہ اس طرح کی وصیت باطل ہے(۱)، نیز میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا مکروہ تحریمی ہے، اس پر

جنازے سے متعلق متفرق مسائل, جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

جنازہ کی چادر پر قرآنی آیات کی کشیدہ کاری

مسئلہ: اکثر علاقوں میں جنازہ کی چادر پر قرآنی آیات کی کشیدہ کاری کا رواج ہے، اس میں قرآنی آیات کی بے ادبی کا خطرہ ہے، نیز یہ عمل سنت سے ثابت نہیں، لہٰذا اسے چھوڑ دینا ضروری ہے۔ الحجة علی ما قلنا : ما فی ” الشامیة “ : تکره کتابة القرآن وأسماء الله

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو کفن دینا, نماز

کفن کے کپڑے کا رنگ شرعاً کیسا ہونا چاہیے؟

مسئلہ: کفن کیلئے بہتر وافضل یہی ہے کہ وہ سفید کپڑے کا ہو(۱)، اس کے علاوہ دوسرے رنگ کے کپڑوں میں بھی کفن دیا جاسکتا ہے، فقہاء کرام نے اس سلسلے میں یہ اصول لکھا ہے کہ زندگی میں جس کپڑے کو پہننا جائز ہے، موت کے بعد اس میں کفن دینا بھی جائز ہے،

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو غسل دینا, نماز

پانی میں ڈوب کر مرے ہوئے شخص کو غسل دیا جائیگا یا نہیں؟

مسئلہ: اگر کوئی شخص پانی میں ڈوب کر مرجائے، اور پانی زیادہ ہونے کی وجہ سے کافی کوشش کے باوجود نعش نہ ملی، پھر چند روز کے بعد نعش اوپر آئی تو اس میں تعفن پیدا ہوگیا، مگر نعش پھولی پھٹی نہیں ہے تو اس کو غسل دیا جائے گا، اور نماز بھی پڑھی جائے

جنازے سے متعلق مسائل, جنازے کی نماز, مسائل مهمه, نماز

خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ

مسئلہ: خود کشی کرنا بہت بڑا گناہ ہے، لیکن اس گناہ گار پر بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور جملہ امور تجہیز وتکفین موافقِ سنت ادا کئے جائیں گے، اور یہی قول مفتیٰ بہ ہے۔ الحجة علی ما قلنا : ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : من قتل نفسه ولو عمدًا

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو کفن دینا, نماز

ایکسیڈنٹ میں یا ڈوب کر مرنے والے کی تجہیز وتکفین اور نماز کا حکم

مسئلہ: اگر کوئی آدمی ایکسیڈنٹ میں یا ڈوب کر مر گیا، اور اس کا نصف بدن بغیر سر کے ملا تو نہ اس کو غسل دیا جائے گا اور نہ کفن دیا جائیگا، اور نہ ہی اس پر نمازِ جنازہ پڑھی جائیگی، بلکہ اس کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جائیگا(۱)، اور اگر

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو غسل دینا, نماز

جل کر مرے ہوئے شخص پر نماز جنازہ او راس کا غسل وکفن

مسئلہ: اگر کوئی شخص دکان، مکان، فیکٹری یا میل وغیرہ میں آگ لگ جانے کی وجہ سے جل کر مرگیا، اور اس کے بدن کا اکثر حصہ خاکستر ہوگیا، تو اس پر غسل ونماز کچھ بھی لازم نہیں ہے،اور اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جائے گا(۱)، اور اگر سر کے ساتھ نصف

جنازے سے متعلق متفرق مسائل, جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

جس میت کی شناخت نہ ہو اس پر نماز جنازہ،غسل اورکفن ودفن

مسئلہ: اگر کسی بس یا کار میں مسلمان وکافر سفر کر رہے ہوں، ناگاہ گاڑی حادثہ کا شکار ہوگئی اور تمام مسافرین جائے حادثے پر اس طرح ہلاک ہوگئے کہ شناخت کی کوئی شکل باقی نہیں رہی، تو تمام کو غسل اور کفن دے کر ایک ساتھ سامنے رکھ کر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی

اوپر تک سکرول کریں۔