نماز

سنن اور نوافل کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نوافل

نمازِ چاشت

مسئلہ: نمازِ چاشت کا وقت ، اشراق کی نماز کے بعد متصل شروع ہوکر، زوال سے پہلے تک ہے، لیکن اس کا افضل وقت دن کا ایک چوتھائی حصہ گزرنے کے بعد ہے، مثلاً آج کل صبح صادق ساڑھے پانچ بجے اور غروبِ آفتاب پانچ بج کر پچاس منٹ پر ہے، تو چاشت کا افضل […]

مسائل مهمه, نماز, نماز کے متعلق متفرق مسائل

نمازِ اشراق

مسئلہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی، پھر وہ اُسی جگہ بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو، پھر اس نے دو رکعت نماز پڑھی، تو اس کے لیے

اوقات مکروہ, اوقات نمازسے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

کن اوقات میں نفل ممنوع ہے؟

مسئلہ: طلوعِ فجر یعنی صبح صادق کے بعد سے طلوعِ آفتاب تک فجر کی فرض اور دو رکعت سنتِ موٴکدہ کے علاوہ تحیة المسجد، تحیة الوضو اور دیگر نوافل پڑھنا مکروہ ہے، اسی طرح عصر اور مغرب کے درمیان بھی نفل پڑھنا مکروہ اور منع ہے(۱)،البتہ فجر کے بعد سورج کے طلوع ہونے سے کچھ

سنن اور نوافل کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز, نوافل

سنن و نوافل کیوں اور کس لیے؟

مسئلہ: بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فرض اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور سنتیں نبی پاک ﷺ کے لیے ہیں،اُن کا یہ خیال غلط ہے، نماز چاہے فرض ہو ، یا سنت ونفل، سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں(۱)، البتہ سنن ونوافل ، فرض نماز میں ، خشوع وخضوع میں جو کمی رہ

مسائل مهمه, نماز, نماز کے متعلق متفرق مسائل

بچوں کی صف کے سامنے سے گزرنا

مسئلہ: بعض دفعہ بڑے آدمیوں کی صف میں خالی جگہ ہوتی ہے، اور اس کے پیچھے بچوں کی لمبی صف ہوتی ہے، ایسی صورت میں اگلی صف میں موجود خالی جگہ پُر کرنے کے لیے بڑے آدمی کو بچوں کی اُس صف کے سامنے سے گزرنا پڑتا ہے، تو بڑے آدمی کے لیے بچوں کی

مسائل مهمه, نماز, نماز کے متعلق متفرق مسائل

جماعت سے فراغت کے بعد جگہ بدلنا کیسا ہے؟

مسئلہ: فرض نماز کی جماعت سے فراغت کے بعد امام اور مقتدیوں کے لیے جگہ بدل لینا مستحب ہے(۱)، ضروری نہیں، بعض لوگ اِسے ضروری سمجھتے ہیں، اور دائیں بائیں ، آگے پیچھے جگہ نہ ہونے کے باوجود اس کی کوشش کرتے ہیں ، اور نمازیوں کا خیال نہ کرتے ہوئے اُن کے آگے سے

مسائل مهمه, نماز, نماز کے متعلق متفرق مسائل

امام کے سلام کے بعدپیچھے کھسک کر بیٹھنا

مسئلہ: بسا اوقات طلبہ واساتذہ جماعت میں شریک رہتے ہیں، جب امام سلام پھیرتا ہے تو جو طالب علم اپنے استاذ کے بازو میں ہوتا ہے وہ پیچھے کھِسک جاتا ہے ، طالب علم کا اپنے استاذ کے ادب میں اس طرح کھسک کر بیٹھنا یہ بھی درست ہے، اور برابر میں بیٹھے رہنا یہ

صفوں کی ترتیب کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

نماز میں صفوں کی درستگی

مسئلہ: جماعت کے ساتھ نماز میں صفوں کو سیدھا کرنا امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام مالک رحمہم اللہ کے نزدیک سنت ہے، جب کہ ابن حجر اور بعض محدثین عظام کے نزدیک واجب، اور ابن حزم کے نزدیک فرض ہے،صفوں کو سیدھا کرنے میں ترتیب کے ساتھ صفوں کو پورا کرنا ، یعنی اول

مسائل مهمه, نماز, نماز کے متعلق متفرق مسائل

سورۂ فاتحہ اور ضمِ سورت سے پہلے بسم اللہ

مسئلہ: حنفیہ اور حنابلہ کے نزدیک سِرّی اور جہری دونوں نمازوں میں سورہٴ فاتحہ اور ضم سورت سے پہلے ” بسم اللہ “ آہستہ پڑھنا سنت ہے، شوافع کے نزدیک جہری نمازوں میں سورہٴ فاتحہ اور ضم سورت سے پہلے ” بسم اللہ “ بلند آواز سے پڑھنا سنت ہے، مالکیہ کے مشہور قول کے

رکعت میں ایک سورت وآیت کا تکرار و تعدد اور ترتیب, قرأت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

امام نے پہلی رکعت میں سورۂ ناس پڑھ دیا

مسئلہ: اگر کوئی شخص پہلی رکعت میں ہی سورہٴ ناس پڑھ دے، تو اس کو چاہیے کہ دوسری رکعت میں بھی اسی سورت کو پڑھ کر نماز پوری کرے ۔ الحجة علی ما قلنا : ما في ” رد المحتار “ : قوله: (لا بأس أن یقرأ سورة ویعیدها في الثانیة) أفاد أنه یکره تنزیها،

قرات کی مقدار سنت, قرأت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

نماز میں مسنون قرأت

مسئلہ: اگر کسی مسجد کا امام نمازوں میں مسنون طریقہ پر قرأت کرتا ہو اور اُس کے اِس عمل سے مصلی اور محلہ کے لوگ ناراض ہوں ، تو امام کو چاہیے کہ مصلی اور محلہ کے لوگوں کی ناراضگی کی وجہ سے مسنون قرأت کرنا نہ چھوڑے، بلکہ مصلیان کو نرمی سے سمجھادے کہ

جماعت کا اہتمام, جماعت کے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

نماز فجر فوت ہونے کا غالب گمان ہوتو کیا کریں؟

مسئلہ: اگر کوئی دینی اجلاس یا پروگرام رات کے اخیر حصہ (دو تین بجے) تک ہوتا ہے، جس میں شرکت کی وجہ سے نمازِ فجر فوت ہونے کا غالب گمان ہو، تو اس طرح کے اجلاس میں شرکت نہیں کرنی چاہیے، اور اگر نمازِ فجر فوت نہ ہو تو شرکت کی اجازت ہے۔ الحجة علی

اذان سے متعلق متفرق مسائل, اذان سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

الفاظِ اذان میں حرکت یا حرف کا اضافہ

مسئلہ: اذان دیتے وقت کسی لفظ میں حرکت کا اضافہ کرنا جیسے ” أشْہَدُ “ کو” أشَہَدُ “ پڑھنا، یاحرف کا اضافہ کرنا جیسے ” اَللّٰہُ اَکْبَر“ کو ” آللّٰہُ اَکْبَر“پڑھنا،یا مد کا اضافہ کرنا جیسے ”اَشْهدُ أنْ لآ إلٰه إلا اللّٰه“کو ” اَشْهدُ أنْ لآ إلٓه إلا اللّٰه“ پڑھنا غلط ہے، لہٰذا اِن سب

مسائل مهمه, نماز, نماز کے متعلق متفرق مسائل

صف اول میں تکبیر اقامت

مسئلہ: نمازی کم ہوں اور صفِ اول میں تکبیر اقامت کہنے سے سب کو آواز پہنچتی ہو تو تکبیر صفِ اول میں کہنا بہتر ہے، ہاں! اگر سب کو آواز نہ پہنچے اور درمیان کی کسی صف میں تکبیر کہی جائے کہ جس کی وجہ سے آگے پیچھے سب نمازی سُن سکیں تو اس میں

اذان سے متعلق مسائل, فوت شدہ نمازوں کے لیے اذان دینا, مسائل مهمه, نماز

قضا نماز کے لیے اذان واقامت

مسئلہ: اگر چند نمازیں فوت ہوجائیں اور مختلف وقتوں میں قضا کرے، تو ہر نماز کے لیے اذان واقامت کہنا مستحب ہے، اور اقامت پر اکتفا کرنا بھی جائز ہے، اور اگر ایک ساتھ سب نمازیں قضا کرے تو پہلی نماز کے لیے اذان واقامت کہنا مستحب ہے، اور باقی میں اختیار ہے ، چاہے

مسائل مهمه, نماز, نماز کے متعلق متفرق مسائل

اجابت بالقدم واجابت باللسان

مسئلہ: اگر کوئی شخص اپنے گھر میں تلاوتِ قرآن میں مشغول ہو اوراذان شروع ہوجائے تو اس پر اجابت بالقدم یعنی قرآن کریم کی تلاوت موقوف کرکے جماعت کی حاضری کے لیے مسجد کی طرف چل دینا واجب ہے، جب کہ ایسا نہ کرنے سے جماعت فوت ہوجاتی ہو، اور اگر جماعت کے ساتھ نماز

اذان سے متعلق مسائل, اذان کا جواب, مسائل مهمه, نماز

اذان ختم ہونے کے بعد جواب دینا

مسئلہ: جو شخص اذان کے وقت نماز، تلاوت، درس وتدریس، تقریر سننے،کھانے پینے یا استنجاء وغیرہ میں مشغول ہو، جس کی وجہ سے وہ اذان کا جواب نہ دے سکا اور اذان ختم ہوچکی ہو، مگر زیادہ دیر نہ ہوئی ہو، تو اسے ایک ساتھ پوری اذان کا جواب دینا چاہیے ، اور اگر زیادہ

اذان سے متعلق مسائل, اذان کا جواب, مسائل مهمه, نماز

اذان کی آواز صحیح سنائی نہ دے تو جواب دیں یا نہیں؟

مسئلہ: اگر اذان کی آواز ہوا کی وجہ سے صحیح نہ آرہی ہو، یا لاوٴڈ اسپیکر میں تکنیکی خرابی آنے کی وجہ سے آواز صحیح طور پر سنائی نہ دے ، تو اگر الفاظ سمجھ میں آئیں تو جواب دیں، ورنہ نہیں۔ الحجة علی ما قلنا : ما في ” رد المحتار “ : قوله:

اقامت, اقامت اور تثویب سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

اقامت کے جواب کا طریقہ

مسئلہ: جس طرح زبان سے اذان کا جواب دینا مستحب ہے، اسی طرح اقامت کا جواب دینا بھی مستحب ہے، مکبِر جو کلمہ کہے جواب دینے والا بھی وہی کلمہ کہے، البتہ ” حی علی الصلوة “ اور ” حی علی الفلاح “ میں ” لا حول ولا قوة إلا باللہ “ کہے، اور ”

اذان سے متعلق مسائل, اذان کا جواب, مسائل مهمه, نماز

اذان کے جواب کا طریقہ

مسئلہ: جو شخص بھی اذان سُنے اس کے لیے اذان کا جواب دینا افضل ومستحب ہے(۱)، اور جواب کا طریقہ یہ ہے کہ جب موٴذن ایک کلمہ کہہ کر رُکے تو جواب دینے والاوہی کلمہ کہے، اور جب موٴذن ” حی علی الصلوة “ اور ” حی علی الفلاح “ کہے تو جواب میں ”

اوپر تک سکرول کریں۔