محرمات سے متعلق مسائل

حرمت رضاعت, محرمات سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نکاح

کان میں دودھ ٹپکانے سے حرمت رضاعت

مسئلہ: بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر کسی عورت کا دودھ، شیر خواربچہ کے کان میں ٹپکایا جائے، تو اس سے بھی حرمتِ رضاعت ثابت ہوتی ہے، اُن کا یہ خیال غلط ہے، صحیح بات یہ ہے کہ حرمتِ رضاعت کے ثابت ہونے کے لیے بچہ کا مدتِ رضاعت ، یعنی صاحبین کے […]

حرمت رضاعت, محرمات سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نکاح

شیرخوار بچہ کو دودھ پلانے کی مدت کتی ہے؟

مسئلہ: مدتِ شیر خوارگی کے اندر بچہ کے دودھ سے بے نیاز ہوجانے تک اُسے دودھ پلانا واجب ہے، اُس کے بعد سے دو سال تک دودھ پلانا مستحب ہے، اوراگر بچہ بہت کمزور ہو ، کچھ اور نہ کھا سکتا ہو، تو ایسی ضرورت کے وقت ڈھائی برس کی عمر تک دودھ پلانے کی

حرمت رضاعت, محرمات سے متعلق مسائل, نکاح

زوجین کا ایک دوسرے کو خون دینا کیسا ہے ؟

مسئلہ: اگر شوہر یا بیوی کو خون چڑھانے کی ضرورت ہو، اور دونوں کا بلڈ گروپ(Blood Group) ایسا ہے کہ ایک دوسرے کو چڑھایا جاسکتا ہے تو بیوی کا خون شوہر کو،یا شوہر کا خون بیوی کوچڑھانے سے رشتہٴ زوجیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا، نکاح بدستور قائم رہتاہے، کیوں کہ شریعتِ اسلام نے محرّمیت

حرمت رضاعت, مسائل مهمه, نکاح

دورانِ مدتِ رضاعت بچہ کو عورت کا خون چڑھانا

مسئلہ: اگر دوسال سے کم عمرکا بچہ قریب المرگ ہے ،اسے خون کی ضرورت ہے، اور خون کا جو گروپ اسے درکار ہے، وہ کسی عورت میں پایا جاتاہے ،اور وہ عورت اپنا خون اس بچہ کو عطیہ کردے، اور وہ خون اسے چڑھایا جائے تو اس بچہ اور عورت کے مابین حرمتِ رضاعت ثابت

اوپر تک سکرول کریں۔