نکاح میں گواہ

مسائل مهمه, نکاح, نکاح صحیح کے متعلق مسائل, نکاح میں گواہ

دولہن سے اجازت کے وقت گواہوں کی موجودگی

مسئلہ: دلہن سے نکاح کی اجازت لینے کے وقت گواہوں کا موجود ہونا ضروری نہیں ہے، بہتر ہے، البتہ ایجاب وقبول یعنی جب عورت کا وکیل یا ولی اپنی موٴکلہ یا مولّیہ کا نکاح کرارہا ہو، اُس وقت گواہوں کا موجود ہونا ضروری ہے۔ الحجة علی ما قلنا : ما في ” الشامیة “ : […]

مسائل مهمه, نکاح, نکاح صحیح کے متعلق مسائل, نکاح میں گواہ

صرف دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح

مسئلہ: نکاح صرف دو گواہوں کی موجودگی میں بھی ہوجاتا ہے، جب کہ دونوں گواہ مسلمان، عاقل اور بالغ ہوں، یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں(۱)، مگر افضل اور بہتر یہ ہے کہ نکاح اعلان کے ساتھ، بڑے مجمع اور مسجد میں کیا جائے۔(۲) الحجة علی ما قلنا : (۱) ما في ” الهدایة

مسائل مهمه, نکاح, نکاح صحیح کے متعلق مسائل, نکاح میں گواہ

غیر محرم وکیل اور شاہدوں کا لڑکی سے اجازت لینا

مسئلہ: آج کل نکاح کے موقع پر ، نکاح کی اجازت لینے کیلئے ایک وکیل اور دو شاہد لڑکی کے پاس جاتے ہیں، اور بسا اوقات یہ وکیل اور دونوں شاہد غیر محرم ہوتے ہیں،(۱) جب کہ اجازت لینے کیلئے وکیل اور گواہ محرم ہونا چاہیے، بالخصوص جب لڑکی بالغہ ہو اور اس کا ولی

مسائل مهمه, نکاح, نکاح صحیح کے متعلق مسائل, نکاح میں گواہ

کیا صرف عورتوں کی شہادت سے نکاح درست ہوجائے گا؟

مسئلہ: آج کل مرد وعورت میں مساواتِ حقوق، یعنی حقوق کی برابری کا نعرہ دے کر بعض مغربی فکر سے سوچنے والے ، اور اس کی نظر سے دیکھنے والے نام نہاد مجتہدین کہیں عورتوں کی امامت اور اس کی خطابت کو جائز قرار دے رہے ہیں، تو کہیں جمعہ کی نماز بجائے جمعہ کے

اوپر تک سکرول کریں۔