مسائل مهمه

جنازے سے متعلق مسائل, جنازے کی نماز, مسائل مهمه, نماز

مجنون وپاگل شخص کی نماز جنازہ میں دعا

مسئلہ: اگر کسی مجنون وپاگل شخص کا انتقال ہوجائے، تو اگر مجنون کی یہ بیماری پیدائشی یا بچپن سے چلی آرہی ہو، حتی کہ بالغ ہونے تک وہ صحت یاب نہیں ہوا، تو ایسا شخص نابالغوں کے زُمرے میں شمار ہوگا، اور اس کی نمازِ جنازہ میں نابالغوں کی دعا پڑھی جائے گی، اور اگر […]

جنازے سے متعلق مسائل, جنازے کی نماز, مسائل مهمه, نماز

خنثیٰ مشکل کی نمازجنازہ اور دعا

مسئلہ: میت اگر خُنثیٰ مشکل ہو اور بالغ ہو، تو اس کی نمازِ جنازہ میں وہی دعا پڑھی جائے گی، جو بالغ مرد وعورت کی دعا ہے، اور اگر بچہ ہو تو موٴنث کی دعا پڑھی جائے، جب کہ بعضے فقہاء دونوں دعاوٴں میں اختیار کے قائل ہیں کہ اگر مذکر کی دعا پڑھی، تو

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو غسل دینا, نماز

خنثیٰ مشکل میت کا غسل

مسئلہ: اگر میت خُنثیٰ مشکل ہو اور وہ بالغ یا مُراہق یعنی قریب البلوغ ہو، تو اس کو غسل نہیں دیا جائے گا، اگر اس کا کوئی مَحرم ہو تو اس کو تیمم کرادے، اور اگر کوئی مَحرم نہ ہو تو اجنبی آدمی ہاتھوں پر کپڑا لپیٹ کر اس کو تیمم کرادے، یہ تیمم غسل

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو کفن دینا, نماز

کفن میں خوشبو لگانا

مسئلہ: کفن میں خوشبو لگانا مستحب ہے، البتہ جو خوشبو مرد کے لیے حالتِ حیات میں منع ہے، یعنی وَرْس(۱)اور زعفران، اس کا کفن میں لگانا بھی منع ہے۔(۲) الحجة علی ما قلنا : (۱) ما في ” مصباح اللغات “ : الوَرْسُ”ایک قسم کی گھاس تل کے مانند ہے جس سے رنگائی کا کام

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو کفن دینا, نماز

عورت کو کفن پہنانے کا مسنون طریقہ

مسئلہ: عورت کے کفن کے مسنون کپڑے پانچ ہیں: (۱)لفافہ، (۲) اِزار، (۳) قمیص- بلا آستین وکلی کے،(۴) سینہ بند- بغل سے رانوں تک دو گز؛ یعنی چھ فٹ لمبا اور سوا گز ؛ یعنی تین فٹ نو اِنچ چوڑا، (۵) اوڑھنی، ڈیڑھ گز؛ یعنی ساڑھے چار فٹ لمبی ، اور بارہ گِرہ ؛ یعنی

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو کفن دینا, نماز

مرد کو کفن پہنانے کا مسنون طریقہ

مسئلہ: مرد کے کفن کے مسنون کپڑے تین ہیں: (۱) اِزار- سر سے پاوٴں تک، (۲) لِفافہ یا چادر- اِزار سے ایک ڈیڑھ ہاتھ لمبا، (۳) قمیص- گلے سے پیروں تک- بلا آستین وکلی کے۔(۱) مرد کو کفنانے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے لفافہ بچھائیں ، پھر اِزار، اُس کے بعد قمیص، پھر مُردے

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو غسل دینا, نماز

غسل کے بعد کفن ناپاکی میں ملوث ہوجائے

مسئلہ: میت کو غسل دے کر کفن پہنانے کے بعد اگر میت کا پیشاب یا پاخانہ وغیرہ نکل آئے، اور کفن ملوث ہوجائے، تو دوبارہ غسل دینے یا بدلنے کی ضرورت نہیں، بدونِ دھوئے نمازِ جنازہ صحیح ہے، البتہ جتنا حصہ بدن اور کپڑے کا ناپاک ہوگیا، اس کو دھوکر پاک کردینا بہتر ہے۔ الحجة

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو غسل دینا, نماز

میت کا جسم ریزہ ریزہ ہوجائے

مسئلہ: اگر کسی میت کا جسم ریزہ ریزہ ہورہا ہو، اور غسل کے قابل نہ ہو، تو اس پر پانی بہادینا کافی ہے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو فقط تیمم کرادیا جائے۔ الحجة علی ما قلنا : ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ولو کان المیت متفسخًا یتعذر مسحه کفي صب

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو غسل دینا, نماز

میت کو دو مرتبہ غسل دینا

مسئلہ: بعض جگہ یہ رَواج ہے کہ مُردے کو دو مرتبہ غسل دیا جاتا ہے، ایک غسل انتقال کے فوراً بعد، اور دوسرا نمازِ جنازہ سے پہلے، جب کہ مُردے کو صرف ایک مرتبہ غسل دینا مشروع ہے، ایک مرتبہ غسل دینے کے بعد دو بارہ غسل دینے کی ضرورت نہیں۔ الحجة علی ما قلنا

جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, میت کو غسل دینا, نماز

میت کو غسل کے لیے تختہ پر لٹانے کا طریقہ

مسئلہ: غسل کے لیے مُردے کو تختہ پر رکھنے کی فقہاء کرام نے دو صورتیں بیان فرمائی ہیں: ایک تو قبلہ کی طرف پاوٴں کرکے لٹانا، دوسرے قبلہ کی طرف منہ کرنا، جیسے کہ قبر میں رکھتے ہیں، دونوں میں سے جگہ کی سہولت کے مطابق جو صورت اختیار کرلی جائے جائز ہے، مگر زیادہ

جنازے سے متعلق متفرق مسائل, جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

غسل سے پہلے میت کے پاس تلاوت کرنا کیسا ہے؟

مسئلہ: بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد غسل دینے سے پہلے میت کے پاس تلاوتِ کلام پاک درست نہیں ہے ، جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ اگر میت کا جسم چھُپا ہوا ہے، تو اس کے پاس تلاوت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اگر جسم کھُلا ہوا ہے،

جنازے سے متعلق متفرق مسائل, جنازے سے متعلق مسائل, مسائل مهمه, نماز

میت کے پاس شوہر کا تلاوت کرنا

مسئلہ: شوہر اپنی میت بیوی کے پاس بیٹھ کر تلاوت کرسکتا ہے، اور چہرہ بھی دیکھ سکتا ہے، نیز محارم کے ساتھ قبر میں اُتر کر دفن کرنے میں مدد بھی کرسکتا ہے، البتہ اس کے لیے غسل دینا اور چھونا درست نہیں ہے۔ الحجة علی ما قلنا : ما في ” الدر المختار مع

جنازے سے متعلق مسائل, قریب المرگ شخص کو تلقین کرنا, مسائل مهمه, نماز

موت کے آثار شروع ہوجانے پر کیا کرے؟

مسئلہ: جس شخص پر موت کے آثار شروع ہوجائیں، اس کا سر شمال کی طرف ، پیر جنوب کی طرف اور رُخ قبلہ کی طرف کردینا چاہیے، یہی افضل اور سنت طریقہ ہے، اور یہ بھی درست ہے کہ چت لٹایا جائے، پیر قبلہ کی طرف ہوں، اور سرتھوڑا اونچا کردیا جائے، ورنہ جس طرح

جنازے سے متعلق مسائل, قریب المرگ شخص کو تلقین کرنا, مسائل مهمه, نماز

قریب المرگ کو لٹانے کا سنت طریقہ

مسئلہ: جب کوئی شخص قریب المرگ ہوجائے، تو اس کو لٹانے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ قبلہ رُخ کرکے داھنی کروٹ پر کردے، لیکن اگر قبلہ کی طرف قدموں کو رکھ کر چِت لٹادے، اور سر کو تکیہ کے ذریعہ قدرے بلند کرکے اسے قبلہ رخ کردے، تو اس کی بھی گنجائش ہے، اور

جنازے سے متعلق مسائل, قریب المرگ شخص کو تلقین کرنا, مسائل مهمه, نماز

مرض الموت کی تعریف

مسئلہ: ایسا مرض؛ جس میں مریض اپنی ذاتی ضرورتوں کے لیے نہ نکل سکے، اسی طرح اس مرض سے صحت کی امید بہت کم ہو، اور موت کا غالب گمان ہو؛ مرض الموت کہلائے گا۔ الحجة علی ما قلنا : ما في ” الفتاوی الهندیة “ : المریض مرض الموت من لا یخرج إلی حوائج

جائز اور ناجائز, دعا, سلام قیام اور مصافحہ کے متعلق مسائل, مسائل مهمه

مریض کے سلسلے میں ایک کوتاہی

مسئلہ: آج کل ہم سے ایک کوتاہی یہ ہورہی ہے کہ مریض کی دَوا دارُو، علاج مُعالَجہ اور دیگر تمام تدابیر اختیار کی جاتی ہیں، پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے، لیکن دعا کا اہتمام نہیں کرتے، بلکہ اُس کا خیال ہی نہیں آتا، حالانکہ یہ دعاءِ منصوص(حدیث سے ثابت) عظیم ترین تدبیر ہے،

قنوت نازلہ, مسائل مهمه, نماز, وتر اور قنوت کے متعلق مسائل

قنوتِ نازلہ میں شریک مسبوق کی نماز

مسئلہ: قنوتِ نازلہ پڑھنے کی حالت میں جو مسبوق امام کے ساتھ نماز میں شریک ہوں، وہ تکبیرِ تحریمہ کہنے کے بعد قیام کی حالت میں امام کی دعا پر آہستہ آہستہ آواز میں آمین کہتے رہیں، اور اُن کی یہ رکعت شمار نہیں ہوگی، کیوں کہ ان کی شرکت امام کے رکوع سے اُٹھ

قنوت نازلہ, مسائل مهمه, نماز, وتر اور قنوت کے متعلق مسائل

مقتدیوں کا امام کے ساتھ قنوتِ نازلہ پڑھنا

مسئلہ: اگر مقتدیوں کو قنوتِ نازلہ کی دعا یاد ہو، تو امام اس دعا کو آہستہ پڑھے، اور سب مقتدی بھی آہستہ آواز میں دعاء قنوتِ نازلہ پڑھیں، اور اگر مقتدیوں کو یاد نہ ہو، جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے، تو امام بلند آواز سے دعاء قنوتِ نازلہ پڑھے اور سب مقتدی آہستہ

قنوت نازلہ, مسائل مهمه, نماز, وتر اور قنوت کے متعلق مسائل

قنوتِ نازلہ پڑھنے کا طریقہ

مسئلہ: قنوتِ نازلہ پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ نمازِ فجر کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہہ کر امام کھڑا ہوجائے، اور قیام کی حالت میں آوازِ قرأت سے کم تر آواز سے دعاء قنوت پڑھے، اور مقتدی اس کی دعا پر آہستہ آواز سے آمین کہتے رہیں، پھر

قنوت نازلہ, مسائل مهمه, نماز, وتر اور قنوت کے متعلق مسائل

مصائبِ عامہ شدیدہ کے وقت قنوتِ نازلہ

مسئلہ: مصائبِ عامہ شدیدہ کے وقت فجر کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد امام کا قنوتِ نازلہ پڑھنا مشروع ہے، آج پورے عالم میں ، بالخصوص مصر، شام، فلسطین وغیرہ کے مسلمان جن سخت پریشانیوں اور مصائب سے دوچار ہیں، اور خود ہمارے ملک کے حالات جس تیزی سے بدلتے جارہے ہیں، اُن کا

اوپر تک سکرول کریں۔