شرائط و ضوابط
- ہر سوال کا جواب نہیں دیا جائے گا، جو سوال ، جواب کے قابل ہوگا اس کا جواب دیا جائے گا، اور قابل جواب ہونا یا نہ ہونا یہ فیصلہ ہم کریں گے، سوال کو پڑھ کر ہمیں معلوم ہوگا کہ سائل کی غرض صحیح ہے ، اور واقعۃً اسے جواب کی ضرورت ہے تو جواب دیا جائے گا۔
- غیر ضروری اور غیر مناسب سوالوں کے جواب نہیں دیئے جائیں گے، غیر ضروری سے مراد جن پر دین کے مقصدی امور موقوف نہیں ، اور غیر مناسب سے مراد ایسے سوالات جو عوام کی سمجھنے کے نہیں ہوتے۔
- کسی سوال کا جواب ہم نے دیدیا اور سائل کو اس پر اطمینان نہ ہو تو وہ کسی اور جگہ استفتاء کر کے عمل کرلے، (فوق كل ذي علم علیم ) ہم سے جنگ و جدل نہ کرے کہ فلاں نے یوں جواب دیا اور فلاں نے یوں۔
- جس سوال کے انداز سے یہ معلوم ہوگا کہ ہم سے جواب لینے کا مقصد کسی کو حق کی دعوت دینا یا صحیح بات کی طرف توجہ دلانا نہیں، بلکہ اس کی تحقیر یا بعض خلاف احتیاط امور کی تشہیر ہے، تو اس کا جواب نہیں دیا جائے گا۔
- فضول سوالات جو عقیدے اور عمل سے متعلق نہ ہوں ، ان کے جوابات نہیں دیئے جائیں گے۔
- سوال کسی عالم دین یا دینی ادارے سے متعلق ہو تو جب تک جانبین سے تحقیق کر کے مکمل اطمینان نہیں کر لیا جائے گا یکطرفہ بیان پر جواب نہیں دیا جائے گا۔
- جس استفتاء کی بابت ہمیں ایسا لگے گا کہ ہمارے فتوی سے فتنہ و فساد برپا کرنا مقصود ہے، تو اس کا جواب نہیں دیا جائے گا۔
- استفتاء کے دارالافتاء پہونچنے کے بعد جب ہمیں اس کے جواب سے متعلق کلی اطمینان ہوگا ، اور جواب کے صواب و درست ہونے کا اعتماد حاصل ہو گا ، تب ہی جواب صادر کیا جائے گا مستفتی اس سلسلہ میں جلد جواب دینے پر اصرار یا دباؤ بنانے کا مجاز نہیں ہوگا۔
- بعضے سوالات جنہیں سائل انتہائی آسان اور خفیف سمجھتا ہے، وہ مفتی کی نظر میں انتہائی اہم اور عظیم ہوتے ہیں، جن کے جواب میں وہ پوری تحقیق اور مراجعت کتب چاہتا ہے، اس لئے جواب میں تاخیر ہو سکتی ہے، اس میں سائل کو یہ حق نہیں ہو گا کہ وہ جلد جواب کا تقاضہ کرے۔
- بعض لوگ اپنا استفتاء مختلف جگہوں پر ارسال کرتے ہیں اور جو جواب ان کی خواہش و منشاء کے مطابق ہوتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں، یہ اتباع دین نہیں اتباع ہویٰ ونفس ہے، جس استفتاء سے متعلق ایسا معلوم ہوگا ، اس کا جواب نہیں دیا جائے گا۔
- بعض لوگ ایک ہی استفتاء میں دس بیس سوال لکھ کر ارسال کر دیتے ہیں، جن کے تحقیقی جوابات لکھے جائیں تو مستقل کتاب بن جائے ، اس طرح کے استفتاء میں محض تین اجزاء کے جوابات دیئے جائیں گے، بقیہ کے لئے دوبارہ مراسلت ضروری ہوگی۔
- بعض سوالات پہیلیوں کی شکل میں ہوتے ہیں ، ان کے جوابات نہیں دیئے جائیں گے، سوال کا صاف اور واضح ہونا ضروری ہے۔
- یہ ویب سائٹ دارالافتاء جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا (ہند) کی ملکیت ہے اور خاص طور پر فقہی سوالات اور فتاویٰ کے لیے بنائی گئی ہے تمام سوالات کے جوابات دارالافتاء کے مفتیانِ کرام کے ذریعہ تحریر کیے جانے کے بعد صدر مفتی (مفتی محمد جعفر صاحب ملی رحمانی مدظلہ العالی) کے اشراف و نگرانی اور ان کی دستخط سے ہی صادر و شائع ہوتے ہیں۔
